• Serenity Literature Team •

Poetry of Allama Muhammad Iqbal

Ghazals of Allama Muhammad Iqbal

علامہ محمد اقبال کی غزلیں

زمانہ آیا ہے بے حجابی کا عام دیدارِ یار ہوگا

تو ابھی رہ گزر میں ہے قیدِ مقام سے گزر

دل سوز سے خالی ہے نگہ پاک نہیں ہے

خودی وہ بحر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں

ہر شے مسافر ہر چیز راہی

مجنوں نے شہر چھوڑا تو صحرا بھی چھوڑ دے

کيا کہوں اپنے چمن سے ميں جدا کيونکر ہوا

اثر کرے نہ کرے سن تو لے مری فریاد

تيري متاعِ حيات، علم و ہنر کا سرور

ميرے کہستاں! تجھے چھوڑ کے جاؤں کہاں

لائوں وہ تنکے کہيں سے آشيانے کے ليے

خرد مندوں سے کیا پوچھوں کہ میری ابتدا کیا ہے

ہُوا نہ زور سے اس کے کوئی گریباں چاک

تازہ پھر دانشِ حاضر نے کیا سحرِ قدیم

دريا ميں موتي ، اے موجِ بے باک

گرچہ تو زنداني اسباب ہے

گرم فغاں ہے جرس اٹھ کہ گیا قافلہ

تہ دام بھی غزل آشنا رہے طائرانِ چمن تو کيا

چمک تيری عياں بجلی ميں ، آتش ميں ، شرارے ميں

يہ سرودِ قمري و بلبل فريب گوش ہے

نہ ہو طغیانِ مشتاقی تو میں رہتا نہیں باقی

الہي عقل خجستہ پے کو ذرا سي ديوانگی سکھا دے

کہوں کيا آرزوئے بے دلي مجھ کو کہاں تک ہے

کمال ترک نہیں آب و گل سے مہجوری

رہا نہ حلقۂ صوفی میں سوزِ مشتاقی

یہ دیر کہن کیا ہے انبارِ خس و خاشاک

پھر بادِ بہار آئي ، اقبال غزل خواں ہو

ہر اِک مقام سے آگے گزر گیا مہ نو

یہ کون غزل خواں ہے پر سوز و نشاط انگیز

ملے گا منزلِ مقصود کا اُسی کو سُراغ

کریں گے اہلِ نظر تازہ بستیاں آباد

مری نوا سے ہوئے زندہ عارف و عامی

مثال پرتو مے ، طوفِ جام کرتے ہيں

تھا جہاں مدرسۂ شیری و شاہنشاہی

ہے یاد مجھے نکتۂ سلمان خوش آہنگ

نہ ميں اعجمی نہ ہندی ، نہ عراقی و حجازی

مٹا دیا مرے ساقی نے عالمِ من و تو

پردہ چہرے سے اٹھا ، انجمن آرائی کر

عجب واعظ کی دينداری ہے يا رب

ضمیرِ لالہ مۂ لعل سے ہوا لبریز

یہ حوریانِ فرنگی دل و نظر کا حجاب

ڈھونڈ رہا ہے فرنگ عیشِ جہاں کا دوام

شعور و ہوش و خرد کا معاملہ ہے عجیب

افلاک سے آتا ہے نالوں کا جواب آخر

دلِ مردہ دل نہيں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ

نے مہرہ باقی نے مہرہ بازی

تو اے اسیرِ مکاں لا مکاں سے دور نہیں

حادثہ وہ جو ابھی پردۂ افلاک میں ہے

فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ

مکتبوں میں کہیں رعنائیِ افکار بھی ہے

ہر چیز ہے محو خودنمائی

يوں تو اے بزمِ جہاں! دلکش تھے ہنگامے ترے

گلزار ہست و بود نہ بیگانہ وار دیکھ

وہ حرفِ راز کہ مجھ کو سکھا گیا ہے جنوں

اے بادِ صبا! کملی والے سے جا کہيو پيغام مرا

کيا عشق ايک زندگیِ مستعار کا

فطرت نے نہ بخشا مجھے اندیشۂ چالاک

خودی کی شوخی و تندی میں کبر و ناز نہیں

یوں ہاتھ نہیں آتا وہ گوہرِ یک دانہ

امینِ راز ہے مردانِ حر کی درویشی

زمانہ ديکھے گا جب مرے دل سے محشر اٹھے گا گفتگو کا

یہ پیرانِ کلیسا و حرم اے وائے مجبوری

میرِ سپاہ ناسزا لشکریاں شکستہ صف

جگنو کی روشنی ہے کاشانۂ چمن میں

زمستانی ہوا میں گرچہ تھی شمشیر کی تیزی

کھو نہ جا اس سحر و شام میں اے صاحبِ ہوش

کشادہ دستِ کرم جب وہ بے نیاز کرے

دل بیدار فاروقی دل بیدار کراری

پریشاں ہو کے میری خاک آخر دل نہ بن جائے

زندگی انساں کي اک دم کے سوا کچھ بھی نہيں

تری نگاہ فرومایہ ہاتھ ہے کوتاہ

خرد نے مجھ کو عطا کی نظرِ حکیمانہ

عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم

اگر کج رو ہیں انجم آسماں تیرا ہے یا میرا

مجھے آہ و فغان نیم شب کا پھر پیام آیا

اک دانشِ نورانی اک دانشِ برہانی

انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن

لا پھر اک بار وہی بادہ و جام اے ساقی

وہی میری کم نصیبی وہی تیری بے نیازی

اپنی جولاں گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں

خرد کے پاس خبر کے سوا کچھ اور نہیں

مسلماں کے لہو میں ہے سلیقہ دل نوازی کا

پوچھ اس سے کہ مقبول ہے فطرت کی گواہی

میری نوائے شوق سے شور حریم ذات میں

عقل گو آستاں سے دور نہیں

دگر گوں ہے جہاں تاروں کی گردش تیز ہے ساقی

نالہ ہے بلبل شوریدہ ترا خام ابھی

خودی ہو علم سے محکم تو غیرتِ جبریل

عالمِ آب و خاک و بادِ سر عیاں ہے تو کہ میں

کی حق سے فرشتوں نے اقبالؔ کی غمازی

نہ آتے ہمیں اس میں تکرار کیا تھی

نہ تخت و تاج میں نے لشکر و سپاہ میں ہے

سختیاں کرتا ہوں دل پر غیر سے غافل ہوں میں

متاعِ بے بہا ہے درد و سوزِ آرزو مندی

اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ

یہ پیام دے گئی ہے مجھے بادِ صبح گاہی

ہزار خوف ہو لیکن زباں ہو دل کی رفیق

فطرت کو خرد کے روبرو کر

جنھيں ميں ڈھونڈتا تھا آسمانوں ميں زمينوں ميں

سما سکتا نہیں پہنائے فطرت میں مرا سودا

یا رب یہ جہان گزراں خوب ہے لیکن

لا کر برہمنوں کو سياست کے پيچ ميں

تجھے یاد کیا نہیں ہے مرے دل کا وہ زمانہ

ظاہر ک آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئی

Rimsha Ashraf
Web Creator

Hi ! Peace Be Upon You All. 

I am a Student, a Content Writer and a Website Developer. I am a part of the Serenity Organization. I am working to provide you the best piece of literature. I hope you would like this post.
Thank you for your consideration!